سکولوں میں دسمبر کی چھٹیاں ہوچکی ہیں۔
بہت اچھے ہیں وہ تعلیمی ادارے جنہوں نے بچوں کو چھٹیوں کا کام نہیں دیا۔
ایسے سکولوں میں پڑھنے والے بچے آج بہت خوش ہیں۔ چنانچہ انکی خوشیوں پر اپنی انا کا پانی مت پھیریں ۔ بچوں کو کھیلنے دیں ۔”انجواۓ“ کرنے دیں ۔ البتہ بچوں کو سردی سے بچانے کا اہتمام بھی کرتے رہیں۔
بچوں کی دسمبر کی چھٹیاں مزید فائدے مند بنائیں ؟
👈 اس کے لیے چند تجاویز ضرور اپنائیں۔
1. بچوں کو بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں۔ اپنے غصے اور الجھن پر قابو رکھیں۔ یہ دو ہفتے آپ کے پاس رہیں گے چنانچہ محبت سے پیش آٸیں۔ چند دن کے مہمان ہیں پھر سے سکول کھل جاٸیں گے اور سارا دن کوہلو کے بیل کی طرح کبھی سکول، کبھی مدرسہ، کبھی ٹیوشن ”چل سو چل“ ہوگی۔ انہیں یہ دن آرام سے گزارنے دیں۔
2۔ انہیں مرضی سے کھیلنے دیں۔ البتہ صبح 8 بجے تک اور شام 5بجے کے بعد ”Indoor“ گیمز کی طرف راغب کریں۔
3۔ مختلف کہانیوں کی کتابیں لاکر دیں۔ بچے بڑے شوق سے پڑھیں گے۔
4۔ ”پاپا“ حضرات بچوں کو اپنے آفس، دوکان، ورکشاپ وغیرہ کا وزٹ کرواٸیں۔
5۔ بچوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ انکے ساتھ باتیں کریں اچھی اچھی باتیں سکھاٸیں۔
6۔ بچوں کے کلاس فیلوز کو اپنے گھربلاٸیں انہیں کھاناکھلاٸیں بچوں کو ساتھ مل۔کر دن گزارنے دیں۔
7۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاں لیکر جاٸیں۔
8۔ قریبی سیرگاہ میں لیکر جاٸیں اور بچوں کو کہیں کہ واپس آکر ہم ”آج کی سیر“ کے عنوان سے مضمون/کہانی لکھیں گے۔
9۔ بچوں کو ایک پیاری سی ڈاٸیری اور دو تین کلر پنسل لیکر دیں جسمیں وہ ڈاٸری لکھا کریں۔ اس بچے کی یادشات بہت بہترہوجاتی ہے۔
اسکے علاوہ چھوٹے بچوں کو ڈاٸری کی بجاۓ کلر بک لیکر دیں۔ بچے بہت خوش ہونگے۔
10۔ بچوں کی پسند کے کھانے بناکرکھلاٸیں۔
11۔ بچوں کو پیدل سیر کرواٸیں۔ خود بھی صبح کی سیر یا شام کی سیرکریں اور بچوں کو بھی ساتھ پیدل سیر کرواٸیں۔
12۔ بچوں کو گھر کےباہر باغیچہ بناکر دیں۔ یا گملے لے دیں جسمیں وہ پودے لگاٸیں ان میں کچھ وقت مصروف رہیں۔
13۔ بچوں کو اچھی اچھی معلومات، مزاحیہ، اسلامی اور اخلاقی تربیت متعلق ویڈیوز دکھاٸیں۔ مدنی چینل۔ غلام رسول اور کنیز فاطمہ سیریز بہت دلچسپ اور معلوماتی ہیں دکھاٸی جاسکتی ہیں۔
14۔ بچیوں کو ماٸیں کھانا پکانا سکھاٸیں۔ گھر صاف ستھرا رکھنے میں ساتھ ملاٸیں۔ بچوں کو برتن دھونا، کپڑے دھونا، کمروں کی صفاٸی کرنا وغیرہ سکھاٸیں۔
15۔ بچوں کو دو حصوں میں تقسیم کرکے دعوت دعوت کھیل کھلیں۔پھربچوں کو سکھاٸیں کہ مہمانوں سے کیسے ملناہے، انہیں کھانا وغیرہ کیسے پیش کرناہے، ان سے باتیں کیسے کرنی ہیں، اسطرح بچے مہمان بننا اور میزبان بننا سیکھ جاٸیں گے۔
16۔ بچوں کو ساتھ ملاکر مسجد کی صفاٸی، گلی محلے کی صفاٸی، جنازہ گاہ کی صفاٸی، اپنے فوت شدگان کی قبروں کی صفاٸی وغیرہ کیلیے لیکر جاٸیں۔ بہترین مشق ہے۔
17۔ رات کو سونے سے پہلے انہیں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے واقعات سناٸیں۔ بہت آسان ہے۔ دن میں موباٸل میں کوٸی واقعہ دو تین دفعہ پڑھ لیں یاد ہوجاۓ گا رات کو بچوں کو سنا دیں۔ یا پھر مارکیٹ سے کتابیں خرید لیں۔
18۔ بچوں کواپنے ساتھ نماز پڑھنے کیلیے مسجد لیکر جاٸیں۔
19۔ بچوں کو نانو کے گھر، پھوپھو کے گھر، خالہ کے گھر، چچا کے گھر لیکر جاٸیں۔
20۔ اگر چھٹیوں کا کام ملا ہے تو روزانہ کچھ دیر کیلیے کام بھی کرواٸیں ۔
احباب گرامی !
اگر آپ نے ان بیس تجاویز میں سے کم از کم 5 پر عمل کرلیا یقین کریں آپ نے اچھے والدین ہونے کا حق ادا کردیا۔
یہ کام بچوں کو نہ کرنے دیں۔
١۔ مغرب کے بعد گھر سے باہر کھیلنا
٢۔ رات کو دیر تک جاگنا
٣۔ صبح کو دیر تک سونا
٤۔ گالی نکالنا
٥۔ جھوٹ بولنا
٦۔ ایک دوسرے کے سامنے کپڑے بدلنا
٧۔ لگاتار 25 منٹ سے زاٸد موباٸل سکرین دیکھنا
٩۔ ایک دوسرے کی چیزیں چرانا یا بغیر اجازت استعمال کرنا
١٠۔ سمجھدار بچوں کو نماز میں سستی نہ کرنے دیں ۔
ان شاء اللہ ہم اپنے بچوں کو یہ باتیں سکھایں گے ۔ آپ بھی ارادہ کریں۔ اور اپنے پیاروں کو بھی یہ باتیں شٸیر کریں تاکہ وہ بھی عمل کریں۔ جزاك اللهُ

ایک تبصرہ شائع کریں