اینکرز کی فنکاریاں | Media Encores Acts

 ‏پاکستانی صحافت کے عظیم دماغ..!!



‏پاکستانی صحافت کے عظیم دماغ..!!


ایک شادی میں رخصتی کے وقت دلہن باپ کے گلے لگ کر زاروقطار روہی تھی وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ یہ شادی زیادہ دیر نہیں چلنے والی دلہن اس شادی سے خوش نہیں ہے کیونکہ دلہن رو رہی ہے


دلہن کے والد نے آنسو پونچھتے ہوئے دلہے سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے۔؟

دولہے نے جواب دیا کہ یہ لالہ موسے والے جاوید چودھری ہیں۔

-------

جب حفیظ جالندھری قومی ترانہ لکھ رہے تھے تو اچانک کہیں سے بھاگتا بھاگتا ایک نوجوان آیا،اور کان میں کہنے لگا یہ قومی ترانہ فارسی اور اردو کا مکسچر ہے قوم اسے مسترد کردے گی اور چلا گیا۔ جالندھری صاحب قلم چھوڑ کر قریب بیٹھے شخص سے بولے کہ یہ کڑھ بھی منہ والا کون تھا؟ تو جواب ملا کہ یہ حسن نثار ہے

--------

نیلسن منڈیلا جب جیل سے27 سال بعد رھا ہوئے تو جیل کے دروازے پرہی ایک نوجوان جو کہ اڑ اڑ کر بولتا تھا یہ کہنے لگا کہ تم نےاپنے27 سال ان کالےمنہ والوں کیلئے ضائع کردیئےاور غصےسے پھوں پھوں کرتاچلا گیا، منڈیلا صاحب نے پاس کھڑے شحص سے پوچھا کہ یہ کون تھا؟توجواب ملا کہ آپ نہیں جانتے؟یہ لیہ کا لیجنڈ رؤف کلاسرا ہے

----------

اقبال نے جب پاکستان بننے کا خواب مسلمانوں کو سنایا تو اک شخص نے کہا کہ آپ کے خواب میں غلطیاں ہیں

اقبال نے پوچھا یہ کون ہے ساتھ کھڑے شخص نے کہا کہ یہ نصرت جاوید ہے

--------

شاہ جہاں تاج محل بنوارہا تھا ، کام مکمل ہوچکا تھا ، کہ اچانک ایک شخص بھاگتا ہوا آیا اور کہا ، تاج محل کا ڈئزائن ٹھیک نہیں ، شاہ جہاں بڑا حیران ہوا اور بولا ہم نے تو انجینئر ز کے ہاتھ بھی کٹوا دئیے ، یہ کون ہے؟ مصاحب بولے اس مرد دانا کو طلعت حسین کہتے ہیں

------

جیسے ہی جہاز نے ٹیک آف کیا ایک مسافر نے پائلٹ کو مارنا شروع کر دیا اور کہا ون ویلنگ کرتے ہو شرم نہیں آتی۔ جیسے وہ مسافر واپس گیا

پائلٹ نے ائیر ہوسٹس سے پوچھا یہ بے وقوف شخص کون تھا ؟

تو جواب ملا کہ یہ اپنا اقرار الحسن چوہان ہے

-------

پاکستان بننے سےکچھ دن پہلے قائداعظم لاہور سے کراچی جا رہے تھےتو ائرپورٹ پر انہیں ایک نوجوان ملا جسکا رویہ انتہائی غصے سے بھرپور تھا اس نے قائد سے بولا

یہ سیاست تمہارے بس کی بات نہیں، تم نے ٹیڑھا پاکستان بنایا ہے،جاؤ لندن واپس جاؤ۔ یہ کہہ کر چلا گیا


قائد نے پوچھایہ کون تھا؟

پاس کھڑے شخص نےکہا 

"مطیع اللہ جان"

-------

لندن میں گول میز کانفرنس ہورہی تھی گول میز کانفرنس قائداعظم اور علامہ اقبال بھی شریک تھے۔ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک نوجوان خاتون اندر آئی۔ خاتون نے سب کو روک کر غصے سے کہا کہ تم لوگ برصغیر کی عوام کو دھوکہ دے رہے ہو۔ یہ گول میز کانفرنس ہے ہی نہیں کیونکہ جس میز پر تم لوگ گول میز کانفرنس کررہے ہو یہ میز گول نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ خاتون غصے سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ مہاراجہ آف کپورتھلہ نے علامہ اقبال سے پوچھا کہ یہ خاتون کون تھی؟

جس پر علامہ اقبال نے کہا کہ یہ اپنی پیپرا والی"غریدہ فاروقی" ہے

---------

ہاکی ورلڈکپ کا فائنل تھا پاکستان اور جرمنی کی ٹیمیں آپس میں کھیل رہی تھیں۔ بہت زوروں کا میچ چل رہا تھا۔ کبھی گیند کلیم اللہ کے پاس ، کبھی حسن سردار کے پاس، کبھی قاسم ضیاء کے پاس

ایک نوجوان اچانک گراؤنڈ میں داخل ہوا، میچ رک گیا۔ اس نوجوان نے سب کھلاڑیوں کو اکٹھا کیا اور غصے سے بول اٹھا کہ ایک چھوٹی سی گیند کے لئے آپس میں لڑرہے ہو شرم نہیں آتی۔ اگر گیند چاہئے تو میں خرید کر دیدوں گا۔ یہ کہہ کر وہ نوجوان گراؤنڈ سے باہر چلا گیا۔ اسکے جانے کے بعد جرمنی کا کپتان مائیکل پیٹر حسن سردار کے پاس آیا اور پوچھا کہ یہ کون تھا؟

حسن سردار نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ یہ میڈیکل اسٹور والا سلیم صافی ہے 

------

نیوٹن فرماتے ہیں کہ جس طرح میرے سر پر سیب گرا بالکل اسی طرح ایک شخص کے سر پر آم گرا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ آم زمین پر گرنے کا تم نے کیا نتیجہ اخذ کیا؟

اس لنگڑے آم جیسی شکل والے نے کہا کہ آم سیدھا گرے تو میٹھا اور اگر الٹا گرے تو کھٹا ہوتا ہے

وہ قبلہ جناب سہیل وڑائچ تھے


-------

 ضرور پڑھیں اگر مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔۔۔۔


 نیوٹن اپنی تحقیقی مقالے میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب سیب سر پر گرنے پر میں گہری سوچ بچار میں مصروف تھا تو ایک نوجوان کہیں سے آیا۔ اس نے میرے سر پر تھپڑمارا اور کہا کہ دور ہوکر بیٹھو، سیب گرنے سے تمہارا سر پھٹ سکتا ہے۔ پھر اس نے سیب کے 4 ٹکڑے کئے اور چاروں ہی خود کھا کر چلتا بنا,میرے استفسار پر میرے شاگرد نے بتایا کہ یہ انصار عباسی تھا۔

0/Post a Comment/Comments