پاکستان کی حقیقت | Reality Of Pakistan


 

پاکستان کی حقیقت 

پاکستان ایک روحانی ملک ہے۔

اس کی اساس اور بنیاد سیاسی و معاشی نہیں ہے بلکہ روحانی ہے اس کی قبولیّت کی شاخیں معلوم نہیں کہاں تک پہنچی ہوئی ہیں- مکہ مکرمہ پہنچی ہوئی ہیں، مدینہ منورہ پہنچی ہوئی ہیں یا عرش پر پہنچی ہوئی ہیں آپ اس گھڑی کا تصوّر کرسکتے ہیں جس گھڑی میں یہ ملک بنا تھا- ۷۲ رمضان المبارک لیلۃ القدر، جمعہ کی رات اور وہ بھی رات کے پچھلے پہر؟ کیا ایسے میں ملک بنا کرتے ہیں، ملک کوئی ایسے وقت پربنتا ہے، اُس کے لئے لیلۃ القدر چُنی جاتی ہے؟ میں پھر کہہ دوں کہ یہ عام ملک نہیں ہے اس کو اللہ بہت بڑا انعام دینے وا لا ہے ، اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اسے پہلے بھی بہت سے ناقابلِ یقین و غیر متوقع انعامات سے نوازا گیا ہے اور آئندہ بھی ضرور انعام سے نوازا جائے گا اس وقت قدرت کا ایک بہت بڑا پروگرام بن رہا ہے اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی امامت کیلئے بنایا ہے - ﴿انٹرویو ۶۱ جون ۵۹۹۱ ئ روزنامہ خبریں ، ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک﴾


پیر سید نصیر الدین گولڑوی علیہ الرحمہ ایک مقامی رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے وقت چند دوسرے علمائے کرام اور مشائخ کی طرح میرے دادا محترم بابوجی ﴿حضرت محی الدین گیلانی المعروف بابو جی رحمۃ اللہ علیہ﴾ کے خیال میں بھی قائد اعظم صاحب کی ظاہری غیر شرعی شخصیت اور اسلام کے نام پر خطے کا حصول اس سے قائد کی شخصیت کے غیر شرعی پہلو کھٹکنے لگے- اسی دوران دادا حضور اجمیر تشر یف لے گئے- وہاں قیام کے دوران ایک مخلص نے آکر آپ سے عرض کی کہ   :-


’’حضرت! سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپکی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے- آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کرسی پر تشریف فرما ہیں، سامنے میز پر ایک فائل پڑی ہوئی ہے چند لمحے بعد پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم وہ فائل اس شخص کو تھما کر فرماتے ہیں کہ یہ ’پاکستان کی فائل ہے‘ وہ شخص کی تصویر دیکھ کر بابو جی سے عرض کی کہ حضرت یہ وہی شخص ہے جسے میں نے رات خواب میں سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس سے فائل لیتے دیکھا تھا- وہ جناب محمد علی جناح تھے تو اس دن سے حضرت بابوجی رحمۃ اللہ علیہ مسلم لیگ کے حمایتی بن گئے- محض اس لئے کہ ان پر سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپکا ہاتھ تھا‘‘- ﴿ماہنامہ ساندل سویر اسلام آباد اکتوبر ۷۹۹۱ئ ،ص ۵۱﴾


اِسی طرح کا ایک واقعہ پروفیسر سرور شفقت حضرت قائدِ اعظم کے متعلق بیان کیا ہے ، قائدِ اعظم حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ مسلمانانِ ہند کی غفلتوں اور سیاسی بے بصیرتی سے مایوس ہو کر واپس انگلستان چلے گئے اور جب واپس آئے تو اپنے آنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک قریبی ساتھی کو اپنی زندگی میں یہ واقعہ عام نہ کرنے کی شرط پہ سُنایا- اُس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر سرور شفقت لکھتے ہیں کہ :-


وہ کہتے ہیں کہ قائداعظم نے فرمایاکہ میں لندن میں اپنے فلیٹ میں سویا ہوا تھا، رات کا پچھلا پہر تھا میرے بستر کو کسی نے ہلایا، میں نے آنکھیں کھولیں، ادھر اُدھر دیکھا، کوئی نظر نہ آیا میں پھر سوگیا- میرا بستر پھر ہلا میں پھر اٹھا، کمرے میں ادھر اُدھر دیکھا اور سوچا’شائد زلزلہ آیا ہو - کمرے سے باہر نکل کر دوسرے فلیٹوں کا جائزہ لیا، تمام لوگ محو استراحت تھے میں واپس کمرے میں آکر سوگیا- کچھ دیر ہی گزری تیسری بار پھر کسی نے میرا بستر نہایت زور سے جھنجھوڑا میں ہڑ بڑا کر اٹھا، پورا کمرہ معطر تھا- میں نے فوری طور پر محسوس کیا کہ ﴿ایک غیر معمولی شخصیت میرے کمرے میں موجود ہے﴾


An extraordinry Personality is in my own room .


Who are you?


میں نے کہا کہ آپ کون ہیں؟


I am your Proohet Muhammad.


آگے سے جواب آیا ’’میں تمہارا پیغمبر محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہوں ‘‘


میں جہا ں تھا وہیں بیٹھ گیا دونوں ہاتھ باندھ لئے فوراً میرے منہ سے نکلا


Peace be upon you ,my Lord.


 آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم


ایک بار پھر وہ خوبصورت آواز گونجی


Mr.Jinnah!You are urgently required by the Muslims of the sub-continent and I order you to lead the freedom movement. I am with you. Don't worry at. You will succeed in your mission Insha Allah''


﴿جناح! برِا عظم کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اورمَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریک آزادی کی قیادت کرو ، مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو، انشاء اللہ تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے﴾

قائد فرماتے ہیں کہ میں ہمہ تن گوش تھا، صرف اتنا کہہ پایا


 Yes my Lord


’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر‘‘


میں مسرت وانبساط اور حیرت کے اتھاہ سمندر میں غرق تھا کہ کہاں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور کہاں میں اور پھر یہ شرف ہم کلامی، یہ عظیم واقعہ میری واپسی کا باعث بنا‘‘-


میرا یہ عقیدہ ہی نہیں ایمان ہے اور قوی ایمان ہے کہ اِس کی حفاظت مکینِ گنبدِ خضریٰ  فرماتے ہیں - اِس طرح کے کئی واقعات تاریخ کا حصّہ ہیں مگر ایک واقعہ جو پروفیسر سرور شفقت نے لکھا ملاحظہ ہوکہ:-

 " 6 ستمبر 1965ء صبح پانچ بجے کے قریب بھارت نے اچانک بغیر کسی اعلان جنگ کے پاکستان کی مقدس سرزمین پر حملہ کردیا- پاکستان کی شیر دل افواج نے فوراً منظم ہوکر چند گھنٹوں کے اندر جنگ کا نقشہ ہی بدل ڈالا- اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کو نہ صرف پاکستان کی پاک سرزمین سے باہر نکال دیا بلکہ جنگ بھی بھارتی سر زمین پر لڑی- سترہ دن او ر اٹھارہ رات کی اس جنگ میں بھارت کی فوجی طاقت کی کمر ٹوٹ گئی- کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ اس جنگ میں پاکستان کی فتح و نصرت کی کیا وجہ تھی؟ وجہ صرف یہ تھی کہ اِس خطہ پاک پر ہمیشہ ہمارے پیارے محبوب حضر ت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہِ التفات رہی ہے‘‘-


جناب محمد انعام صدیقی نگران لائبریری مدرسۃ العلوم الشرعیہ مسجد نبوی شریف نے ۴۲ ستمبر ۵۶۹۱ء  بمطابق ۸۲ جمادی الاول ۵۸۳۱ھ مدینہ طیبہ سے ایک خط کراچی کے ایک خدا رسیدہ بزرگ حاجی نور محمد کو لکھا تھا اس خط کے اندر ان الفاظ میں ایک ایمان افروز خواب کا ذکر کیا ہے کہ:-


’’جس روز لاہور پر حملہ ہوا، اسی روز یہاں ایک دو حضرات نے خواب میں دیکھا کہ حرم شریف میں مجمع کثیر ہے روضہ اقدس سے حضر ت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بہت عجلت میں تشریف فرماہوئے اور ایک نہایت خوبصورت تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر باب السلام کی طرف تشریف لے گئے بعض حضرات نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر جلدی آپ اس گھوڑے پر کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پاکستان میں جہاد کے لیے اور ایک دم برق کی مانند بلکہ اس سے بھی تیز روانہ ہوگئے ‘‘-  ﴿ مبشرات پاکستان , 1966ئ، ص65﴾


منشی عبد الرحمن خان رقم طراز ہیں ’’ 1948ء میں دربارِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم خاص آقا اسحاق علی صاحب نے جو گنبد خضریٰ میں آنے جانے کے واحد مجاز تھے نے ایک ذمہ دار پاکستانی کو بتایا کہ :-


’’جس روز قائد اعظم کا پاکستان میں انتقال ہوا اس روز مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ بہت مسرور نظر آرہے تھے فرمایا کہ آج ہمارا محب آرہا ہے اس کی آمد کی خوشی مناؤ، جب دریافت کیا گیا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون ہے تو ارشاد فرمایا ’’ محمد علی جناح‘‘-


﴿مشاہدات و اِرادات ص148﴾


میرے آقا و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٰ وسلم کی یہ بشارت کہ مجھے ہندوستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آرہی ہے، کیا اِس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٰ وسلم نے منتخب فرما لیا تھا-


میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے


عرب اور ہندوستان کے درمیان کئی ممالک پڑتے ہیں اور کئی جگہ اسلام کا پیغام پہنچ چکا تھا لیکن ان تمام کو نظر انداز فرما کر اگر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ہندوستان کا ذکر فرمایا تو وہ ذکر مبارک صرف اور صرف پاکستان کی بشارت کا تھا اور بالآخر یہ بشارت وجود میں آئی اور پاکستان ہی کو دُنیا کی امامت کا فریضہ سر انجام دینا ہے-


 سیّد شاہ لطیف المعروف امام بری سرکاررحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ:-


 ’’ نور پور کے پاس ایک اسلامی شہر آباد ہوگا جو مستقبل میں دُنیائے اِسلام کا مرکز بنے گا‘‘- ﴿آج یہاں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہے ﴾


تحریک آزادی کے دوران ایسے مسلم راہنما کی ضرورت تھی جو انگریزوں کے قول و فعل اور ہندوئوں کی چالبازیوں سے واقف ہو چونکہ محمد علی جناح نے اکثر تعلیم انگریزوں کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز بھی انگلستان سے کیا پھر اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں ہندوئوں کی جماعت کانگریس میں رہنے کا تجربہ بھی حاصل کیا چنانچہ منشائے الٰہی اور منشائے نبوت کے تحت قیادت کے لئے محمد علی جناح کا انتخاب ہوا- ﴿ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت 13جون 2010ئ ﴾


اس دنیا سے روانہ ہوتے ہوئے حضرت قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان کسی لیڈر یا قوم کے سپرد نہ کیا تھا بلکہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا :-


 ’’اے خدا تُو نے ہی مسلمانوں کو آزادی بخشی ہے اب تو ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے- میری قوم ابھی ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے اس کا صفوں کا کَج بھی دُور نہیں ہوا، تُو ہی مدد کرنے والا ہے اور تُو ہی اس کا حامی و ناصر ہے‘‘-  ﴿بحوالہ: مبشرات پاکستان ،ص: ۵۴﴾


اس تقویض و توکل کا نتیجہ تھا کہ اللہ جل شانہ، نے ان کی اس امانت کو ۵۶۹۱ء میں دشمنوں کی دست برد سے محفوظ رکھا اور شاید اسی لئے قائداعظم کے معتمد خاص وہ مردِ غازی دربارِ نبوی ﴿w﴾ سے وہ بشارت لائے تھے کہ:-


’’ پاکستان نہیں مِٹے گا اِس کے مِٹانے والے مِٹ جائیں گے ‘‘-


۴۴۹۱ء میں مولانا محمد یوسف سیالکوٹی اور مولانا محمد بشیر رضوی نے فرمایا کہ:


’’قائد اعظم مسلمانوں کے لئے خدائی عطیہ ہیں ان کے دامن کو مضبوطی سے تھام لو اور ہندو کانگریس کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابل کرو، انشاء اللّٰہ کامیابی مسلم کی ہوگی اور پاکستان بن کر رہے گا‘‘- ﴿عظیم قائد عظیم تحریک ج ۲ ص ۵۸۸﴾


 ۰۴۹۱ء  میں مغرب کے ایک معروف ستارہ شناس ایچ آرنیلر کی پیش گوئی رسالہ ٹریبون میں چھپی تھی آرنیلر نے لکھا تھا کہ:-


’’ہندوستان تقسیم ہوگا، مسلمانوں کی مملکت قائم ہوگی پھر دونوں ملکوں میں اختلافات رہیں گے- ۹۹۹۱ء  سے پہلے دوستانہ نہیں ہوں گے- ہندوستان اندرونی انتشار کا شکار ہوجائے گا اور مسلمان دِہلی تک قابض ہوجائیں گے‘‘ -  ﴿مبشرات پاکستان ظہورالحسن قادری ، ج اول ،ص ۷۸، ممتاز مفتی﴾


سلہٹ ﴿بنگلہ دیش﴾ میں حضرت شاہ جلال رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مرجع خاص و عام ہے-

مولوی فرید احمد کو ۵۴۹۱ء  میں رمضان المبارک ۶ ۲ شب کو خواب میں حکم دیا کہ:-


’’ فرید تم فرید احمد ہو، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہو، ایک بہت بڑا اسلامی ملک بننے والا ہے، جائو اور جناح کے قافلے میں شامل ہوجائو تم پاکستا ن بنانے کے لئے ایک سو قدم چلو گے تو جنت تمہارے خیر مقدم کے لئے ایک لاکھ فرلانگ کا فاصلہ طے کرے گی‘‘- ﴿نوائے وقت ۴۱ مارچ ۹۹۹۱ئ ﴾


علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی استاد چودھری محمد حسین نہایت اول درجہ کے عابد، زاہد اور ولی اللہ تھے انہوں نے ۸۴۹۱ ء میں مولانا سلطان محمد کے سامنے حلفیہ فرمایا تھا کہ :-


’’یہ ملک پاکستان حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آیا ہے اور یہ قیامت تک قائم رہے گا اور فرمایا حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک روزانہ پاکستان میں تشریف لاتی ہے‘‘-


﴿مبشرات پاکستان ، ۲۷﴾


یہ بات بہادر یار جنگ ﴿رحمۃ اللہ تعالیٰ﴾ نے جامع عثمانیہ حیدر آباد ﴿دکن﴾ میں شعبہ دینیات کے پروفیسر مولانا محمد علی کو اپنے ایک خط مرقومہ ۸۱ اپریل ۴۴۹۱ئ میں لکھی تھی کہ :-


’’آخری اجلاس کی تقریر میری وہ پیشن گوئیاں تھیں -  مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اللہ نے میری زبان سے اعلان کروایا کہ انشائ اللہ پاکستان بنے گا - وہاں کا دستور، الہی دستور اور وہاں کی حکومت، قرآنی حکومت ہوگی اور سب سے بڑھ کر قابل مسرت بات یہ ہے کہ جب میں دورانِ تقریر اس مقام پر پہنچا تو قائد اعظم نے زور سے میز پر مُکا مارا کر مجھ سے اردو زبان میں فرمایا کہ ’’تم بالکل درست کہتے ہو‘‘ اور میں نے فوراً اعلان کر دیا کہ قائد اعظم سے میرے قول پر سند ِ تصدیق مل گئی-‘‘

_____""______


پوری قوم کو بانی پاکستان کا 148 واں یوم ولادت مبارک۔

آپ کی ولولہ انگیز قیادت، انتھک محنت اور لگن کے سبب مسلمانانِ ہند کیلئے مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔ آپ کے زریں اصول ایمان، اتحاد، تنظیم بطور قوم ہماری زندگی کے لئے مشعلِ راہ ہونے چاہئیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم کامیاب قوموں کی صفوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اللّٰہ تعالٰی آپکے درجات بلند فرمائے آمین ۔


مراۃالعارفین انٹرنیشنل کی تحریر 

#QuaideAzamDay 

#QuaideAzam 

#QuaidDay

0/Post a Comment/Comments